تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی
حوزہ نیوز ایجنسی| جب ہم خداوند قدوس و متعال کی نہایت پاک و مقدس کنیز اور سیدالمرسلین و ام المومنین خدیجة الکبری علیہما الصلوة والسلام کی عظیم المرتبت بیٹی ام الائمہ حضرت فاطمةالزھرا سلام اللہ علیہا کی زندگی پر نگاہ کرتے ہیں تو ابتدا سے لے کر انتہا تک صبر و استقامت اور جہاد و مقاومت کا ایک نہایت عظیم مرقع نظر آتی ہے چنانچہ:
1۔پیدا ہوتے ہی آپ نے دیکھا کہ زنان قریش نے آپ کی مادر گرامی کا مکمل بائیکاٹ اس لئے کر رکھا ہے کہ انھوں نے مکہ کے ایک یتیم و غریب ہاشمی جوان سے شادی کی ہے۔(1)
2۔ پیدا ہوتے ہی آپ نے دیکھا کہ مردان مکہ بالخصوص کفار قریش خداوند علیم و حکیم کے سب سے باعظمت نبی و رسول اور کائنات کے سب سے شریف و نجیب انسان یعنی آپ کے شفیق و مہربان بابا سے قطع تعلق کرکے انھیں دردناک اذیتیں دینے پر آئے دن اس لئے تیار رہتے ہیں کہ وہ "یایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا" (2)کا ھدایت و سعادت افروز نورانی نعرہ، الحاد و بت پرستی کے شقاوت و بدبختی سے بھرے اندھیروں میں بلند کرتے رہتے ہیں۔
3۔ابھی آپ تقریبا دو سال کی تھیں کہ آپ نے دیکھا اہل مکہ انسانیت و آدمیت کی خو بو سے کوسوں دورہوکر اس قدر حیوانیت و درندگی پر اتر آئے کہ انھوں نے سرکار مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، جناب خدیجہ اور آپ کے حامی و مددگارخاندان بنی ہاشم کے افراد جیسےحضرت ابوطالب علیہ السلام وغیرہ کو اولاد و اطفال کے ساتھ شعب ابو طالب میں محصور و مقید کر ڈالا۔
یہ ھمہ جہت بائیکاٹ اور محاصرہ اتنا سخت و شدید تھا کہ اس کی وجہ سے بنی ہاشم درختوں کے پتے چباتے اور بھوک کی شدت سے ان کے بچے روتے اور بلکتے رہتے تھے۔(3)
ظاہر و ثابت ہے کہ انھیں ہاشمی بچوں میں دوسال کی بچی حضرت زھرا سلام اللہ علیہا بھی شامل تھیں۔
یعنی سن اکسٹھ ہجری میں جس قیامت خیز بھوک کی سختی سے دشت کربلا میں امام حسین علیہ السلام، آپ کے اھل بیت و اطفال اور انصار و احباب گزرے تھے، ان سے پہلے سن 7 بعثت سے لے کر سن 10 بعثت تک کچھ اسی طرح کی سختی سے رسول اللہ، مولا علی، بی بی زھرا علیہم السلام اور دیگر بنی ہاشم بھی گزر چکے تھے۔
4۔ ابھی آپ تقریباً 5 سال کی تھیں کہ شعب ابوطالب کا محاصرہ ٹوٹ تو گیا لیکن اس کی سختیوں کی تاب نہ لا کر آپ کے بابا کے نہایت وفادار و جانثار محسن و حامی حضرت ابوطالب و خدیجہ دونوں دنیا سے چل بسے۔
ان دو ھمدردوں کی جدائی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اسقدر غم انگیز تھی کہ جس سال ان دونوں نے رحلت کی اس پورے سال کو آپ نے عام الحزن یعنی رنج و غم کا سال قرار دے دیا تھا۔(4)
واقعاً سوچنے کا مقام ہے کہ جب 50 سال کے اولو العزم پیغمبر پراس مصیبت کا اتنا اثر تھا تو 5 سال کی کمسن بچی پر اپنی شفیق ماں اور اپنے بزرگ چہیتے چچا ابوطالب کی مفارقت کسقدر شاق ہوگی!!۔
لیکن اس کمسنی کے عالم میں بھی حضرت زھرا سلام اللہ علیہا ان تمام کوہ شکن مظالم و مصائب کے مقابل دین الہی کی تحریک اور تبلیغ و ترویج کی خاطر فولادی دیوار بن کرکھڑی رہیں اور جزع و فزع کرنے کے بجائے صبر و مقامت کا مظاہرہ کرکے اپنے بابا کے لئے قوت قلب کا باعث بنی رہیں۔
5۔ حضرت ابوطالب علیہ السلام کی جانگداز رحلت کے بعد قریش نے پیغمبر اکرم سے اپنی عداوت و دشمنی کا دائرہ اور زیادہ وسیع کردیا اور انھوں نے آپ کو ایسی دردناک اذیتیں پہچانی شروع کردیں جو ان کی زندگی میں نہیں پہچاتے تھے، جس کی طرف ابن ھشام نے یوں اشارہ کیا ہے:
"وَلَمَّا هَلَكَ أَبُو طَالِبٍ نَالَتْ قُرَيْشٌ مِنْ رَسُولِ اللہ مِنَ الْأَذَى مَا لَمْ تَكُنْ تَنَالُ مِنْهُ فِي حَيَاةِ عَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ۔۔۔"(5)۔
یعنی جب ابو طالب چل بسے تو قریش نے اللہ کے رسول کو ایسی اذیتیں پہچائیں جو ان کے چچا ابوطالب کی حیات میں نہیں پہچائی تھیں۔
اللہ رے مظلومیت رسول اکرم ایک تو آپ حضرت ابوطالب و خدیجہ علیہما السلام کی رحلت کی وجہ سے بشدت غمزدہ اور سوگوار تھے ہی کہ کفار و مشرکین پہلے سے کہیں زیادہ آپ پر اذیت و مصیبت اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے لگے۔
ظاہر ہے کہ سرکار مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ان روحانی و جسمانی اذیتوں سے جو ذات سب کے زیادہ متاثر ہوتی تھی وہ حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کی ذات تھی یا پھر مولا علی علیہ السلام کی ذات۔
6۔ وفات حضرت ابوطالب علیہ السلام کے بعد اھل مکہ نے آپ کو اس قدر ستایا کہ آپ کو مکہ چھوڑ کر طائف جانا پڑا تاکہ قبیلہ ثقیف سے مدد حاصل کر سکیں اور اپنی قوم( قریش) کے ظلم و تشدد سے محفوظ رہ سکیں۔(6)
مکہ کے اس خطرناک ماحول میں اپنے مظلوم بابا سے دوری اور جدائی کو اپنی غریب ماں کے سائے سے ابھی کچھ مہینے پہلے محروم ہونے والی نہایت غمزدہ اور سوگوار کمسن بچی نے کیسے برداشت کیا، اسے خداوند علیم و خبیر کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
7۔مکہ کی مذکورہ خطرناک صورتحال سے نجات حاصل کرنے کے لئے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طائف پہنچے تو پہلے آپ نے قبیلہ ثقیف کے سرداروں کو دعوت اسلام دی اور پھر مدد کا مطالبہ کیا تو انھوں نے یہی نہیں کہ ان دونوں مطالبوں کو رد کردیا بلکہ آپ کو اذیت دینے پر اتر آئے۔
جس کی دردناک تفصیل صاحب اعیان الشیعہ نے اس طرح بیان کی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ قریش اس وقت تک مجھ سے دبے رہے جب تک ابو طالب زندہ تھے۔
(حقیقت یہی ہے کہ)جب وہ وفات پا گئے تو قریش نے تکلیفیں پہنچانا شروع کردیں اور وہ حضور کے خلاف جری ہوگئے، لہذا حضور اکرم(ص) زید بن حارثہ کے ساتھ حضرت خدیجہ کی وفات کے تقریباً تین ماہ بعد طائف تشریف لے گئے تاکہ وہاں کے قبائل کے سامنے اپنی دعوت پیش کریں۔
اہلِ طائف نے اپنے لڑکوں اور کم عقل لوگوں کو آپ کے خلاف اکسایا، وہ آپ کو گالیاں دیتے، شور مچاتے اور آپ پر پتھر پھینکتے رہے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں خون آلود ہوگئے، زید بن حارثہ آپکو بچاتے رہے، آخرش ان کا سر پر بھی زخمی ہوگیا(7)۔
تاریخ کے مذکورہ بیان سے واضح ہے کہ طائف کے پست فطرت لوگوں نے یہی نہیں کہ مدد نہیں کی بلکہ آپ کے مطالبہ کا جواب توہین و اہانت، سنگ بارانی اور آپ کے پیر خون آلود کرکے دیا اور اس طرح ایک شریف و نجیب مہمان کے ساتھ یہ ظالمانہ برتاو کرکے اپنے لئے ابدی ذلت و رسوائی خرید لی۔
سوچئے اور غور کیجئے اس دردناک صورتحال پر!!کہ حضور اپنی قوم کے مظالم سے تنگ آکر کس امید سے طائف کی طرف گئے اور کس عالم میں وہاں سے پھر اپنے انھیں کٹر دشمنوں کے درمیان واپس آئے۔
کون جانتا ہے کہ جب آپ خون آلود اور زخمی ہوکر پھر اپنی سنگدل و ستم پیشہ قوم کے درمیان لوٹے ہونگے تو آپ کے دل پر کیا گزری ہوگی اور غضب یہ کہ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر خدیجہ کی یتیم آپ کی ننھی سی چہیتی بیٹی فاطمہ کا کیا حال ہوا ہوگا۔"واللہ اعلم حیث یجعل رسالته"(8)۔
8۔قتل رسول کی گھناونی سازش(9)۔
کفار قریش نے دارالندوہ میں جمع ہوکر مکہ کے چالیس قبیلوں کو اس بات پر تیار کیا کہ سب مل کر محمد ابن عبد اللہ کا قصہ تمام کر ڈالیں۔
سوچئے ماں کی طرف سے یتیم کل آٹھ سال کی بچی جو اپنے مظلوم باپ کے خلاف انھیں کٹر اور سنگدل دشمنوں کی مسلسل گام بگام شدید عداوت و دشمنی کو دیکھتی آرہی ہو، جب اس نے یہ ہولناک خبر سنی ہوگی تو کس طرح اپنے آپ کو سنبھالا ہوگا، کیسے اپنے رنج و غم سے بھرے دل پر قابو پایا ہوگا اور کیونکر اپنے آنسووں کے امنڈتے سیلاب پر صبر و استقامت کا بند باندھا ہوگا، "ان اللہ علیم بذات الصدور"(10)۔
خیر یہ ہوئی کہ خداوند خبیر و علیم نے کفار قریش کی اس خطرناک سازش کی خبر دیتے ہوئے اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ اپنے بستر پر علی کو لٹاکر مکہ سے ہجرت کر جائیں۔
حکم الہی کے مطابق رات کے اندھیرے میں حضور اکرم (ص) تو مکہ سے ہجرت فرماگئے لیکن آپ کے اعزا واقارب بالخصوص حضرت زھرا، فاطمہ بنت اسد اور مولا علی علیہم السلام ان کٹر دشمنوں کے درمیان مکہ ہی میں رہ گئے۔
ظاہر ہے کہ ہجرت کرنے کے باوجود جس طرح خود رسول اکرم کو اپنی اور اپنے اھل بیت بالخصوص اپنی اکلوتی اور کمسن بیٹی کی جان کا خوف لاحق تھا، اسی طرح کا وحشتناک خوف آپ کی ننھی سی بچی فاطمہ کو بھی لاحق تھا لیکن یادگار خدیجہ نے ایسے حشر خیز حالات میں اپنی کمسنی و بے مادری کے باوجود ایسی مثالی استقامت دکھائی کہ الہی، نبوی اور اسلامی مشن میں کسی طرح کا خلل واقع نہیں ہونے دیا۔
9۔ علوی و فاطمی قافلہ پر بہیمانہ حملہ:
سرکار رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مکہ سے ہجرت کرنے کے تقریبا تین دن بعد مولا علی علیہ السلام فواطم یعنی فاطمہ بنت اسد، فاطمہ بنت رسول اللہ اور فاطمہ بنت زبیر ابن عبد المطلب کو ساتھ لےکر مدینہ کی طرف ھجرت کے ارادہ سے چلے تو ابھی مکہ سے تھوڑی دور مقام ضجنان کے قریب پہچے تھے کہ قریش کے ہتھیاروں سے لیس آٹھ سواروں نے آکر راستہ روک لیا اور وہ مولا علی علیہ السلام سے سخت لہجہ میں بولے کہ:
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان خواتین کو ساتھ لے کر ہم سے بچ کے نکل جاو گے ؟
اچھا ہے واپس لوٹ چلو!!
یہ سن کر مولا علی علیہ السلام نے فرمایا:
اگر ہم واپس نہ لوٹیں تو کیا کروگے؟
وہ بولے: تمھیں یا تو ذلت کے ساتھ واپس لے جائیں گے یا پھر تمھارا سر لےکر لوٹیں گے!!۔
یہ کہکر جب وہ بے شرف اونٹوں اور ہاشمی خواتین کی طرف انھیں اپنی حراست میں لینے کے لئے بڑھے تو مولا ان کے اور ہاشمی مخدرات کے درمیان حائل ہوگئے۔
اسی دوران حرب ابن امیہ کے غلام جناح نے مولا علیہ السلام پر تلوار سے وار کیا تو آپ نے اس کا وار کاٹ کر جب جوابی حملہ کیا تو آپ کی تلوار نے اسے مع اس کے گھوڑے کے نذر ہلاکت کرڈالا، اس کے بعد مولا دوسرے گستاخوں کی طرف بڑھے تو وہ پیچھے ہٹتے چلے گئے اور کہنے لگے: اے فرزند ابی طالب رحم کریں اور ہمیں چھوڑ دیں!!
مولا نے ان کی جاں بخشی کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنے چچا زاد بھائی رسول اللہ کے پاس یثرب جا رہا ہوں، اب کوئی میرے پیچھے یا قریب آکر دکھائے(11)۔
انھیں پچھاڑنے کے بعد مولا نے بڑے اطمینان کے ساتھ کوہ ضجنان کے دامن میں رات گزارنے کے لئے پڑاو ڈالا۔
وہاں یہ رات آپ اور فواطم نے کیسے بسر کی اس کا حال شیخ طوسی علیہ الرحمہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
"فظل ليلته تلك هو والفواطم (أمه فاطمة بنت أسد، وفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وآله وفاطمة بنت الزبير) طرراً يصلون وطورا يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم فلم يزالوا كذلك حتى طلع الفجر فصلى عليه السلام بهم صلاة الفجر ثم سار لوجهه يجوب منزلاً بعد منزل لا يفتر عن ذكر الله، والفواطم كذلك وغيرهم ممن صحبه حتى قدموا المدينة"(12)۔
پس یہ رات حضرت علی علیہ السلام اور فواطم یعنی آپ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد، رسول اللہ(ص) کی نور نظر حضرت فاطمہ زھرا اور زبیر ابن عبد المطلب کی بیٹی فاطمہ نے نمازیں پڑھتے، اٹھتے بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ تعالی کا ذکرکرتے ہوئے بسر کی اور وہ سب کے سب ساری رات مسلسل اسی طرح عبادت اور ذکر الہی میں مشغول رہے، یہانتک کہ فجر طلوع ہوگئی، پس مولا علی علیہ السلام نے انھیں نمازِ فجر(باجماعت) پڑھائی، اس کے بعد پھر سفر شروع کیا اور وہ سب اسی طرح ذکر الہی کرتے کرتے مدینہ پہچ گئے۔
اس واقعہ میں یوں تو بہت سے باعظمت سبق آموز نکات موجود ہیں لیکن یہاں فقط یہ عرض کرنا ہے کہ ہمیں جہاں اس روداد سے مولائے کائنات علیہ السلام کی غیر معمولی ہمت و شجاعت کا علم ہوتا ہے وہیں ہاشمی خواتین بالخصوص حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کی عظیم جرئت و استقامت اور شہامت و مقاومت کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
اگرچہ اس قافلہ میں حضرت زھرا سلام اللہ علیہا سب سے کمسن یعنی فقط آٹھ سال کی تھیں لیکن اس بحرانی حالت میں دشمنوں کی طرف سے حملہ ہونے کے باوجود آپ ذرہ برابر مضطرب نہیں ہوئیں بلکہ اس قدر مطمئن و مقاوم نظر آئیں کہ اپنے ہمرانان قافلہ کے ساتھ ساری رات عبادت و بندگی اور ذکر الہی میں مشغول رہیں۔
ہمارا سلام ہو آپ کے مستحکم ایمان و توکل، خالص جذبہ عبادت و بندگی، مثالی عزم و ہمت اور عظیم ولولہ صبر و مقاومت پر۔
10۔اگرچہ سرکار رسالتمآب اور آپ کے اھل بیت علیہم السلام مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے لیکن پھر بھی مکہ کے کفار و مشرکین اپنی شرارت و خباثت سے باز نہیں آئے اور انھوں نے دس سال کی قلیل مدت میں اللہ کے رسول سے تقریبا اسی جنگیں لڑیں(13)۔
ظاہر ہے کہ ان دفاعی جنگوں میں سربراہ حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کے پدر بزرگوار سرکار مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلامی لشکر کے کمانڈر اور علمدار آپ کے ابن عم اور شوہر نامدار مولا علی علیہ السلام ہوا کرتے تھے، اس لئے ان درپیش جنگوں کے ہنگام ان دونوں ھستیوں کے ہمراہ آپ کو بھی بے پناہ صبر و حوصلہ اور غیر معمولی ہمت و مقاومت سے کام لینا پڑتا تھا۔
11۔ویسے تو آپ کی ساری زندگی کثیر و شدید آلام و مصائب کے ہجوم میں دین اسلام کی تبلیغ و ترویج اور بالا دستی کی خاطر مجاھدت و مقاومت سے عبارت تھی لیکن ہجرت کا گیارھواں سال آپ کے لئے بڑی قیامت کا سال تھا چونکہ اس برس ماہ صفر کے آخری ایام میں خداوند متعال کے عظیم المرتبت رسول اور آپ کے بابا کا رحمتوں بھرا سایہ آپ کے سر سے اٹھ چکا تھا۔
جب تک آپ کے پدر بزرگوار زندہ تھے اس زمانہ تک انھیں اور آپ کو زیادہ تر مصیبتیں اور اذیتیں کفار و مشرکین کے ہاتھوں اٹھانی پڑتی تھیں لیکن سرکار کی قیامت خیز وفات کے بعد مکہ کے کفار و مشرکین سے کہیں زیادہ دردناک مصیبتیں آپ اور آپ کے سوگوار و عزادار اھل خانہ کو مدینہ کے مسلمانوں کے ہاتھوں برداشت کرنی پڑیں۔
وفات رسول کے بعد آل رسول پر مدینہ کے بظاہر مسلمانوں(منافقوں) نے کیسے کیسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، اسے خود ان شدید مظالم و مصائب کی زد میں آئی ہوئی رسول اللہ کی 18 برس کی جوان اکلوتی بیٹی نے اس طرح بیان کیا ہے:
صبت علی مصائب لو انھا--صبت علی الایام صرن لیالیا(14)۔
مجھ پر اس قدر مصیبتیں ڈھائی گئی ہیں کہ اگر وہ مصیبتیں دنوں پر پڑتیں تو وہ سیاہ رات میں بدل جاتے۔
12۔انتہائی افسوس اور رنج و ملال کی بات یہ ہے کہ جس رسول نے میت کو جلد دفن(15) کرنے کی تاکید فرمائی تھی(16) اور بہت سے مسلمان جنازوں کو جلد دفن کرایا تھا، خود اس کا جنازہ تین دن تک زمین پہ رکھا رہا اور اھل بیت طاہرین اور چند مخلص اصحاب کے سوا اس کے ارد گرد کوئی نظر نہیں آیا، تقریبا تین دن کے بعد نہایت غربت و مظلومیت کے عالم میں بصد رنج و ملال آنحضرت کے اھل بیت نے آپ کے جنازہ مبارک کو دفنایا جب کہ اس مدت میں مسلمانوں کے ایک غاصب و ظالم ٹولے نے سقیفہ میں جاکر خلافت الہی و نبوی سے ان کے اھل بیت کو محروم کرکے ایک نا اھل کو حضور کا خلیفہ بناڈالا یعنی وفات رسول جیسی قیامت خیز مصیبت پر ان کے اھل بیت کو تعزیت و تسلیت پیش کرنے اور ان کے زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان سے ان کا مسلم حق چھین کر انھیں اور زیادہ کرب میں مبتلا کردیا گیا۔
لیکن اس کے باوجود اھل بیت نے یہی نہیں کہ انتقامی کاروائی نہیں کی بلکہ نہایت صبر و ضبط اور تحمل و استقامت سے کام لیا۔
کیوں ؟
اس لئے کہ کفار و مشرکین اور دشمنان اسلام تاک لگائے بیٹھے تھے کہ کوئی اس قسم کی کاروائی ہو تو وہ اسلام و مسلمین دونوں کا صفایا کر ڈالیں۔(17)
13۔اھل بیت چونکہ دین الہی کے اصل وارث اور حقیقی محافظ تھے اس لئے انھوں نے تو کسی قسم کی جنگی و انتقامی کاروائی نہیں لیکن ان کی غربت و مظلومیت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر حق خلافت کے غاصبوں نے نئے خلیفہ کی بیعت لینے کے بہانے ان پر وہ مظالم ڈھائے کہ جن پر تاریخ آج تک خون کے آنسو بہا رہی ہے۔
وفات سرکار مرسل اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مصیبت عظمی سے دلفگار اھل بیت اپنے گھر کے اندر دروازہ بند کئے ہوئے ابھی عزاداری اور آہ و زاری میں مشغول تھے کہ جدید خلیفہ کی بیعت لینے کے لئے ایک شریر و ذلیل ٹولہ آگ اور لکڑیاں لے کر اس دروازہ پر آگیا جس پر آکر رسول اللہ سلام کیا کرتے تھے۔
اس ٹولہ کا اصل مقصد اللہ و رسول کے خلیفہ برحق مولا علی علیہ السلام سے زبر دستی ناحق خلیفہ کی بیعت لینا اور بیعت نہ کرنے کی صورت میں انھیں قتل کرنا تھا، اس کے اس پلید و منحوس مقصد کو حضرت زھرا سلام اللہ علیہا سمجھ گئیں اسی لئے آپ نے دین کے حقیقی وارث و محافظ، رسول اللہ کے واقعی جانشین، زمانہ کے امام اور اپنے ولی و شوہر نامدار مولا علی علیہ السلام کو دروازہ پر نہیں آنے دیا اور خود دروازہ پر آگئیں۔
آنے والے اوباش ٹولہ نے جب دھمکی دے کر دروازہ کھلوانا چاہا تو بی بی نے باقاعدہ مزاحمت و مقاومت ایجاد کی اور دروازہ نہیں کھولا۔
اسلامی و انسانی قانون کے تحت اگر صاحب خانہ دروازہ نہ کھولے تو آنے والے کو خاموشی سے پلٹ جانا چاہیئے لیکن اس شر پسند ٹولہ نے یہی نہیں کہ ایسا نہیں کیا بلکہ جب دروازہ نہیں کھولا گیا تو اسے آگ لگا کرجلتا ہوا دروازہ رسول کی اکلوتی بیٹی پر گرادیا، جس کے سبب ان بی بی کا معصوم بچہ محسن دنیا میں آنے سے پہلے ہی شہید ہوگیا۔(18)
لیکن ایسی طاقت فرسا اذیت کے بعد بھی بی بی کو دین الہی کےحقیقی محافظ اورکاروان انسانیت کے واقعی ھادی کی بقا و حفاظت کی اتنی فکر تھی کہ اسی قیامت کے عالم میں فضہ سے سوال کیا کہ بتا حسن کے بابا کہاں ہیں؟
فضہ کے اشارہ کی مدد سے جب دیکھا کہ اس ٹولہ نے اپنا منحوس مقصد حاصل کرنے کے لئے علی کو گرفتار کرلیا ہے تو آپ اپنے اوپر ٹوٹی ہوئی قیامت کو بھلاکر سراپا احتجاج بن گئیں اور اس راہ میں اپنی مجاھدت و مقاومت کو جاری رکھتے ہوئے آخرش آپ نے اپنا سر کھولنے کا حوالہ دیا۔
چونکہ آپ خداوند قدوس اور رسول پاک کی مقدس ترین ناموس تھیں، اس لئے جیسے ہی یہ حوالہ دیا مدینہ کی حالت منقلب ہوگئی جس کے زیر اثر اس شر پسند ٹولہ نے گھبرا کر علی کو رہا کردیا اور اس طرح بی بی کی مجاھدت و مقاومت کامیاب ہوگئی۔
14۔یہ تو سچ ہے کہ بی بی اپنے وقت کے ولی و امام کو بچانے میں اپنی بے مثال مجاھدت و مقاومت کے نتیجہ میں کامیاب ہوگئیں لیکن یہ ایک مرحلہ تھا البتہ بہت اہم مرحلہ۔
جب کہ دوسرا مرحلہ جو مولاعلی علیہ السلام کی غصب شدہ خلافت و جانشینی کی بازیابی کی جد و جہد سے تعلق رکھتاتھا وہ ابھی باقی تھا۔
افسوس کہ وفات رسول(ص) کے بعد منافقوں نےاھل بیت سے ان کا حقیقی منصب خلافت و ولایت چھین کر انھیں سیاسی و سماجی اعتبار سے کمزور کرنے کے بعد علاقہ فدک دھاوا بولا اور اسے غصب کرکے اھل بیت طاھرین علیہم السلام کو مالی و اقتصادی حیثیت سے بھی کمزور کرڈالا تھا۔
مذکورہ دونوں مرحلے(غصب خلافت و فدک اور امیرالمومنین سے جدید خلیفہ کی بیعت ورنہ ان کا قتل) نہایت سخت و سنگین تھے جو اھل بیت طاھرین سے کہیں زیادہ دین اور امت کے لئے نقصان و ضرر رساں تھے، اس لئے بی بی اپنے پورے وجود کے ساتھ ہر قربانی دیتے ہوئے سراپا احتجاج بن گئیں۔
حالات اھل بیت بالخصوص امیرالمومنین علیہ السلام کے لئے بہت حساس اور خطرناک تھے اور آپ کے پاس ان سے بچنے کے فقط دو راستے تھے:
آپ یا تو غاصب نظام خلافت کے آگے سرتسلیم خم کردیتے یا پھر قتل ہوجاتے اور ان دو میں سے کسی کو بھی امیرالمومنین علیہ السلام قبول نہیں کر سکتے تھے۔
اس سنگین صورتحال کو حضرت زھرا سلام اللہ علیہا باقاعدہ محسوس کر رہی تھیں، اسی لئے آپ نے مولا علی علیہ السلام کی سپر بن کر اس نہایت خطرناک لیکن انتہائی اہم محاذ کی کمان سنبھالی اور تن تنہا پوری غاصب و ظالم حکومت سے براہ راست ٹکڑا گئیں اور اس کا فساد و بطلان قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے ظاہر و ثابت کر گئیں، البتہ آپ کو اس باطل و فاسد اور ظالم و غاصب طاغوتی و شیطانی نظام کے خلاف قیام، جہاد اور مقاومت کی بہت ہی بھاری قیمت چکانی پڑی جس کا تفصیلی ذکر تاریخ کے صفحات میں باقاعدہ محفوظ ہے اور ہم سب کے لئے یہ درس فراہم کر رہا ہے کہ حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت اتنی اہم شے ہے کہ نبی کی بیٹی عین عالم شباب میں اس کی خاطر اپنی اور اپنے بے گناہ بچہ کی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں فرماتیں۔
سقیفائی باطل و فاسد نظام کے خلاف حضرت زھرا کی مجاھدت و مقاومت کے چند نمونے:
1۔ شب و روز گریہ کرنا :
اس شیطانی و طاغوتی نظام کے غصب و ظلم کو برملا کرنے کے لئے آپ شب و روز گریہ و زاری اور آہ و فغاں میں مشغول رہتی تھیں۔
تاریخی بیان کے مطابق یہ جانسوز گریہ آپ نے تین اہم اور حساس مقامات پر فرمایا ہے:
الف؛ اپنے گھر میں۔
ب؛ جنت البقیع میں۔
ج؛ میدان احد میں(19)۔
گریہ و زاری کی شکل میں یہی حساس احتجاجی حکمت عملی سبب بنی کہ افراد امت سوالات قائم کرنے لگے اور بی بی کو جواب میں اھل سقیفہ کے کثیف و خبیث جرائم و مظالم کی قلعی کھولنےکا موقع فراہم ہونے لگا۔
اسی لئے آپ کے اس عمل سے سقیفائی حکومت پیچ و تاب کھانے لگی تھی۔
2۔ دروازہ پر آنا:
بقائے دین و شریعت اور تحفظ امامت و ولایت کی خاطر جب آپ نے حکومتی ظالم و سنگدل ٹولہ کے خلاف مزاحمت و مقاومت فرمائی تو آپ پر اس نے وہ قیامت ڈھائی کہ جس کی شدت و سنگینی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
3۔انصار و مہاجرین سے استمداد(21)
چالیس دن تک رات کے وقت حضرت زھرا سلام اللہ علیہا مولا علی اور حسن و حسین علیہم السلام کو ساتھ لے کر مہاجرین و انصار کے دروازوں پر جاتی رہیں اور ان سے حق کی نصرت و حمایت اور ظلم و ستم کی مخالفت کے لئے اٹھنے کا مطالبہ کرتی رہیں، لیکن ان کی غیرت وحمیت نہیں جاگی، البتہ حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت میں آپ کا یہ عظیم اھتمام قیامت تک آنے والی نسلوں کے لئے محرک اور مشعل راہ بن گیا اور سب پر واضح کرگیا کہ دنیا جن کو ستارگان ھدایت سمجھتی ہے بعد رسول وہ بنت رسول کے بار بار تقاضا کرنے کے باوجود حق کی مدد اور باطل کی مخالفت کے لئے آمادہ نہیں ہوئے۔
اس سے واضح انداز میں یہ سبق ملتا ہے کہ حق و ھدایت کا عنوان حاصل کرنا، دن رات حق حق کا نعرہ لگانا اور باطل کو برا بھلا کہنا اور ہے اور وقت پڑنے پر حق کا حامی اور باطل کا مخالف بن کر میدان عمل میں اترنا اور ہے۔
3۔ اھل سقیفہ سے حق کا مطالبہ کرنا(22)
بی بی نے اھل خلافت سے اپنے حق فدک کا کئی بار مطالبہ کیا ہے، آپ صدیقہ تھیں اس کے باوجود احقاق حق کے لئے آپ نے نہایت سچے گواہ بھی پیش کئے لیکن افسوس کہ آپ کے برحق دعوی کو مسترد کر دیا گیا۔
4۔ مسجد نبوی میں اجتماعی خطاب(23)
مدینہ میں موجود اسلام کے سب سے بڑے فلیٹ فارم مسجد نبوی میں جاکر آپ نے سارے مسلمانوں اور غاصبان حق سے خطاب کرتے ہوئے انھیں ان کے بھیانک جرائم، حق سے دوری، باطل کی پیروی، بے جاسستی و کاہلی، ناجائز خاموشی و بزدلی، الہی، دینی و نبوی تعلیمات و ھدایات سے سرتابی، دنیاداری، نفاق و تلون مزاجی، زور و اقتدار پرستی اوراھل بیت نبوت کے ساتھ بدعہدی و غداری وغیرہ پر اس طرح تنبیہ فرمائی کہ مجمع زار و قطار رونے لگا۔
5۔زنان انصار و مہاجرین کو غیرت دلانا(24)۔
6۔ غاصبان خلافت سے کھلی ناراضگی اظہار(25)۔
7۔رات میں خاموشی کے ساتھ تدفین کی وصیت (26)۔
8۔نشان قبر مٹانے کی تاکید (27)۔
اہم سوال:
بی بی نے مولا علی علیہ السلام کے حق ولایت و خلافت اور علاقہ فدک کی واپسی نیز امت کی ھدایت و بیداری کے لئے اتنی عظیم مجاھدت و مقاومت فرمائی، لیکن نہ مولا کو ان کا حق ملا نہ فدک واپس کیا گیا اور نہ امت بیدار ہوئی تو پھر اس عظیم مجاھدت کا فائدہ کیا ہوا؟
جواب:
1۔اسلامی و عقلی دونوں اعتبار سے اپنی ذمہ داری پر عمل کرنا انسان کے لئے ضروری اور اہم ہوتا ہے خواہ اس ذمہ داری کا نتیجہ اور فائدہ حاصل ہو ہو، یا نہ ہو مثلاً :
اگر گھر میں کوئی بچہ مریض ہوجائے تو اس کا علاج کرانا اس کے سرپرست کی ذمہ داری ہے، اگر وہ ٹھیک ہوجائے تو بہت خوب ، لیکن اگر ٹھیک نہ ہو اور انتقال کرجائے تو اس کے سرپرست کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جائے گا چونکہ اس نے اپنی ذمہ داری پرعمل کیا ہے، اس کے برعکس اگر سرپرست بچہ کا علاج نہ کرائے اور وہ مرجائے تو اسے قصور وار سمجھا جائےگا۔
2۔حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت میں برپا کی جانے والی ہر تحریک اور جد و جہد کا مقصد فقط فوری کامیابی حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ حق و باطل کو واضح کرکے تمام عالم انسانیت کے لئے
حقیقت و ہدایت کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔
3۔ اگر اپنے زمانہ کے باطل اور غاصب و ظالم نظام کے خلاف سیدہ زھرا سلام اللہ علیہا اتنی عظیم جد و جہد نہ فرماتیں تو اسے آسانی سے اپنے کو سچا اور برحق ثابت و ظاہر کرنے کا موقع فراہم ہوجاتا۔
4۔اہل سقیفہ کے خلاف صدیقہ طاھرہ نے فقط اس لئے مورچہ نہیں سنبھالا تھا کہ ان کے ابن عم اور شوھر نامدار کا حق خلافت یا خود ان کا حق، فدک چھینا گیا تھا بلکہ اس لئے اقدام کیا تھا کہ اہل سقیفہ نے دین و دیانت، حق و صداقت اور عقل و شرافت جیسی اعلی اور ضروری قدروں کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
مسئلہ فقط منصب و جاگیر چھن جانےکا نہیں تھا بلکہ خط الہی و نبوی اور دینی و قرآنی قیادت و رھبری سے کھلے انحراف کا تھا اور اس کے خلاف مقاومت نہ کرنا اور خاموش رہ جانا، گویا آنے والی نسلوں کو گمراہ کرنے کے مترادف تھا۔
5۔حقیقت یہ ہے کہ سیدہ زھرا سلام اللہ علیہا سے باطل و ظالم نظام کے ہاتھوں دین و دیانت، حق و صداقت، انصاف و عدالت اور انسانی عظمت و کرامت کو سولی پہ چڑھتے نہیں دیکھا گیا، اس لئے آپ سراپا احتجاج بن گئیں اور دوسرے مقدس نما اور ریاکار لوگوں کی طرح وقتی و دنیوی چند روزہ مفادات حاصل کرنے یا عارضی نقصانات سے بچنے کے لئے آپ نے بے دینی، خاموشی، بزدلی، لاپرواہی اور بلاتکلیفی کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
جس کا انتہائی قابل قدر فائدہ یہ ہوا کہ آج چودہ سو سال بعد بھی ہمیں حق و باطل، عدل و ظلم، ایمان و نقاق، دیانت و خیانت، ھدایت و ضلالت اور سعادت و شقاوت کی تصویر صاف نظر آرہی ہے اور یہی تصویر دیکھ کر بہت سے لوگ اپنا راستہ باطل، ظلم و ستم، نفاق و خیانت اور ضلالت و شقاوت سے جدا کرکے حق و صداقت اور دین و دیانت کے پرچم تلے کھڑے ہیں اور عالمی پیمانہ پر باطل و ظالم اور مستبد و مستکبر نظام سے شب و روز پوری شجاعت و بہادری کے ساتھ ٹکر لے رہے ہیں۔
مآخذ و مراجع:
1۔ابو القاسم کوفی، الاستغاثہ فی بدع الثلاثہ، ج1 ص 115۔
2۔ حاکم نیشاپوری، المستدرک، ج1، ص 61، ح 39۔
3۔ابن ھشام، السیرةالنبویہ، ج 1، ص351۔
4۔ابن سیدہ، المحکم و المحیط الاعظم، ج 3، ص 225۔
5۔سیرہ ابن ھشام، ج 1، ص 420۔
6۔حوالہ سابق۔
7۔سید محسن امین عاملی، أعيان الشيعة، ج 1، ص 235۔
8۔قرآن حکیم، سورہ انعام، آیہ 124۔
9۔فضل ابن حسن طبرسی، اعلام الوری، ج1، فصل 8، ص 145۔
10۔قرآن حکیم، سورہ لقمان، آیہ 23۔
11۔ شیخ طوسی، الامالی، ص 470۔
12۔حوالہ سابق، ص 471۔
13۔علی کورانی، جواھر التاریخ، سیرہ نبویہ، ج1، ص 606۔
14۔جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج 33، ص 280۔
15۔ محمد ابن یعقوب کلینی، الکافی، ج 3، ص141، کتاب الجنائز، باب تعجیل الدفن، ح 1۔
16۔ محمد ابن اسماعیل بخاری، صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب السرعہ بالجنازہ، ح 1315۔
17۔ مجلہ رسالة القلم، مقالہ دور الامام علی فی زمن الخلفاء، شمارہ10۔
18۔ شہرستانی ابوالفتح ،الملل والنحل، ج 1، ص 57۔
19۔علامہ مجلسی، بحار الأنوار، جلد 43، ص 174-176۔
20۔الکوثر فی أحوال فاطمة بنت النبي الأعظم، جلد 6، ص 460۔
21۔شیخ مفید، الاختصاص، ص 184۔
22۔ بلاذری، فتوح البلدان، باب فدک، ص 35۔
23۔ ابن طیفور، بلاغات النساء، ص 12۔
24۔ حوالہ سابق،ص 32۔
25۔ محمد ابن اسماعیل بخاری، صحیح البخاری، کتاب المغازی، حدیث 4240–4241۔
26۔ حوالہ سابق، کتاب الفرائض، حدیث 6725–6726،
27۔ مجلسی، بحار الانوار، ج 43، ص 213










آپ کا تبصرہ